خوشی آئی تھی لیکن جا چکی ہے
ہماری بزم اب بھی ماتمی ہے
عجب اک حبس ہے میرے نگر میں
ہوا ٹھہری ہے، بستی بولتی ہے
جہاں میں وحشتوں کے درمیاں ہوں
میری ہر سمت رقصاں خامشی ہے
صدا دوں بھی تو کس کو اِس جہاں میں
جہاں آواز اپنی اجنبی ہے
لحد میں لیٹ کر دیکھیں گے بسمل
اداسی کس جگہ سے جھانکتی ہے

0
1