| یادِ بطحا مرے دل میں ذرا بَس جانے دو |
| اب گھٹا چھائی ہے تو اس کو بَرَس جانے دو |
| ناصحو اشک رکیں گے نہیں ، بَس جانے دو |
| زائرو پاسِ ادب رکھ لو ہوس جانے دو |
| آنکھیں اندھی ہوئی ہیں ان کو ترس جانے دو |
| نیک بوتے ہیں یہاں زہد و صفا کی کھیتی |
| واعظوں نے بھی سجائی ہے بلا کی کھیتی |
| ہم نکموں نے تو بوئی ہے رجا کی کھیتی |
| سوکھی جاتی ہے امیدِ غربا کی کھیتی |
| بوندیاں لکّٔہِ رحمت کی برس جانے دو |
| مل رہی ہے ابھی سے قلبِ حزیں کو تسکیں |
| ہے یقیں یہ کہ وہ خود آئیں گے میری بالیں |
| مرنے پر غم کے بجائے ہے مرا دل فرحیں |
| پلٹی آتی ہے ابھی وجد میں جانِ شیریں |
| نغمۂِ قُم کا ذرا کانوں میں رس جانے دو |
| دیں گے ہم تم کو دعا قافلے والو ٹھہرو |
| ہو ہمارا بھی بھلا قافلے والو ٹھہرو |
| دے جزا تم کو خدا قافلے والو ٹھہرو |
| ہم بھی چلتے ہیں ذرا قافلے والو ٹھہرو |
| گٹھڑیاں توشۂِ امید کی کس جانے دو |
| ہے خیالِ رخِ جاناں کی حکومت دل پر |
| ضبط دل میں نہیں ہے اب ،نہ ہی قدرت دل پر |
| رہتی ہے نقش سدا گل کی ہی صورت دل پر |
| دیدِ گل اور بھی کرتی ہے قیامت دل پر |
| ہمصفیرو ہمیں پھر سوئے قفس جانے دو |
| نغمۂِ ہجر سے مدہوش بنانے والو |
| سوزِ غم ہے نِہاں ، اشکوں میں اسے اب ڈھالو |
| سازِ دل چھیڑ دو، مخمور ذرا کر ڈالو |
| آتشِ دل بھی تو بھڑ کاؤ ادب داں نالو |
| کون کہتا ہے کہ تم ضبطِ نفس جانے دو |
| کیوں یوں بیمار کے درپے ہوئے دل کے شعلو |
| میرے آزار کے درپے ہوئے دل کے شعلو |
| تم تو لا چار کے درپے ہوئے دل کے شعلو |
| یوں تنِ زار کے درپے ہوئے دل کے شعلو |
| شیوۂِ خانہ بر اندازیِ خس جانے دو |
| نفسِ امَّارہ نے ہر سو ہے بچھایا ہوا جال |
| ہر قدم پھر بھی رضا حق پہ رہے مثلِ جبال |
| ہاں مگر عجز سے وہ رضوی سناتے ہیں یوں حال |
| اے رضا آہ کہ یوں سہل کٹیں جرم کے سال |
| دو گھڑی کی بھی عبادت تو برس جانے دو |
| //////////////////////////// |
| تضمین نگار: ابو الحسنین محمد فضل رسول رضوی |
| نورِ حمزہ اسلامک کالج گلشن معمار ، کراچی |
| شبِ یکشنبہ 13 رجب المرجب 1447 ھ |
| 3 جنوری 2026ء |
| شب 12 بج کر باون منٹ |
معلومات