یہ جامعہ رشیدیہ ہے علم کا یہ گلستاں
کہ دھرمپور کی زمیں بنی ہے رشک آسماں
جناب قاری عاقل اس چمن کی جان و شان ہیں
وہ مہتمم ہیں بزم کے امیر کاروان ہیں
وہ حق کی داستان ہیں بڑاہی مہربان ہیں
وہ حافظِ قران ہیں وہ پیکرِ امان ہیں
انہی کے دم قدم سے ہے، بہار کا سماں یہاں
یہ جامعہ رشیدیہ ہے علم کا یہ گلستاں
نعیم بھی شفیق بھی سکھار ہے ہیں علم دیں
مٹارہے ہیں تیرگی بنارہے ہیں مہ جبیں
دلوں میں بھر رہے ہیں یہ، خدا کی ذات کا یقیں
ہزار بار آفریں ہزار بار آفریں
انہیں کے نورِ علم سے، کھُلا ہے یہ نیا سماں
یہ جامعہ رشیدیہ ہے علم کا یہ گلستاں
ہمارے حافظ اشرف اور، جنابِ حافظِ انصار
خدا کے فضل سے یہ دونوں ہیں بڑے ہی ہونہار
عمل کی راہ پر چلیں، سکھاتے ہیں یہ بار بار
انہی کے دم سے آئی ہے، چمن میں علم کی بہار
سبھی اساتذہ یہاں پہ عظمتوں کے ہیں نشاں
یہ جامعہ رشیدیہ ہے علم کا یہ گلستاں
تقیؔ کے دل کی ہے دعا خدا ہو اس کا پاسباں
الہی تا ابد رہے یہ علم کا حسیں مکاں
یہاں کا ذرہ ذرہ ہو شعاعِ نور ضوفشاں
مہکتا ہی رہے سدا یہ علم و دیں کا گلستاں
خدا کرے کہ اس چمن، پہ آئے نہ کبھی خزاں
یہ جامعہ رشیدیہ ہے علم کا یہ گلستاں

0
8