آج پھر سے ہوا غم کے ماروں کا رقص
جیسے راتوں کو ہو چاند تاروں کا رقص
آج پھر سے محبت نے توبہ ہے کی
آج پھر سے ہوا تیری یادوں کا رقص
تیری خاطر یہاں اک تماشہ ہوا
تیری خاطر ہوا دل کے ہاروں کا رقص
آپ مخمل نشیں تھوڑا دیکھیں یہاں
رات کے اس پہر بے قراروں کا رقص
ہم ہجومِ زماں سے الگ ہو گئے
اک تماشہ ہے یہ ہم بے چاروں کا رقص
سارے ہنستے رہے پھر بھی چلتا رہا
رات بھر اک یہاں غم گساروں کا رقص
بعد تیرے مجھے پھر پسند آگیا
ڈوبتی شام کے ان نظاروں کا رقص

5