| فکری/سیاسی نثری نظم |
| ــــ------------------------- |
| یہ کوئی نظام نہیں رہا |
| یہ ایک منظم فریب ہے |
| جو سچ کو جرم بناتا ہے |
| اور جھوٹ کو قانون کا درجہ دیتا ہے |
| انصاف غائب نہیں |
| قید ہے |
| ان ہی طریقۂ کار میں |
| جن پر دستخط کرنے والے |
| خود فائدہ اٹھاتے ہیں |
| عدالتیں کھلی ہیں |
| مگر سچ وہاں داخل نہیں ہوتا |
| گواہ کو سننے سے پہلے |
| خاموش کر دیا جاتا ہے |
| اور فیصلہ |
| مقدمے سے پہلے لکھ دیا جاتا ہے |
| گھروں کا جلنا خبر نہیں |
| یہ وہ اعداد و شمار ہیں |
| جنہیں خاموش زبان میں چھپایا جاتا ہے |
| “صورتحال قابو میں ہے” |
| وہ سرکاری جملہ ہے |
| جو ملبے کے اوپر لکھا جاتا ہے |
| آئینے حادثے میں نہیں ٹوٹے |
| انہیں توڑا گیا ہے |
| تاکہ کوئی |
| اصل چہرہ نہ پہچان سکے |
| طاقت خنجر نہیں تھامتی |
| وہ حکم لکھتی ہے |
| اور خنجر کو جائز قرار دیتی ہے |
| پھر ہاتھ جھاڑ کر |
| خود کو بری الذمہ کہتی ہے |
| ظلم کوئی غلطی نہیں |
| یہ ایک ڈیزائن ہے |
| ایسا نظام |
| جو قانون کے لباس میں |
| جرم کو معمول بنا دیتا ہے |
| ہم بولتے ہیں |
| تو ریکارڈ ہمیں مٹا دیتا ہے |
| ہم لکھتے ہیں |
| تو معنی بدل کر واپس آتے ہیں |
| ہم مزاحمت کرتے ہیں |
| تو اسے خطرہ کہا جاتا ہے |
| دہشت صرف دھماکہ نہیں |
| دہشت وہ خاموش رضامندی ہے |
| جو ناانصافی کو |
| روزمرہ بنا دیتی ہے |
| وہ خود کو محافظ کہتے ہیں |
| وہ خود کو نگہبان کہتے ہیں |
| مگر سوال یہ ہے |
| کہ کس کے محافظ |
| اور کس کے نگہبان؟ |
| یہ زمین نعروں میں ہماری ہے |
| یہ مٹی خطابات میں ہماری ہے |
| مگر فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں |
| اور اطاعت یہاں مانگی جاتی ہے |
| اور آخر میں |
| سوال اپنی جگہ کھڑا ہے |
| اگر سب کچھ ہمارا ہے |
| تو پھر یہ طے کون کرتا ہے |
| کہ ہم کیا سوچ سکتے ہیں |
| اور کیا نہیں؟ |
معلومات