| اب نہ ہاتھوں میں مہندی لگی ہے، خم بھی زلفوں کے کچھ کم نہیں ہیں |
| تم بتاؤ ہمیں پھر یہ کیا ہے، گر محبت کے یہ غم نہیں ہیں |
| کتنا معصوم دلکش ہے پیارا، اس چمن کا الگ ہے نظارہ |
| پھول تو خیر ہیں پھول لیکن، اس کے کانٹے بھی کچھ کم نہیں ہیں |
| وقت تھا ایک ایسا بھی مجھ پر، میں ہر اک آنکھ کا تھا ستارہ |
| اب تری بزم میں ہے یہ عالم، آج کل محترم ہم نہیں ہیں |
| اپنی زلفوں کو تم نے یوں جھٹکا، بچ گیا ہوں میں رستہ بھٹکتا |
| تیری زلفوں کے اس میکدے میں، جامِ جم کے ہمیں غم نہیں ہیں |
| داستانِ محبت میں تیرا، تذکرہ بے وفا کر لوں لیکن |
| یہ بتاؤ کروں کس طرح سے، میری آنکھیں بھی اب نم نہیں ہیں |
| یوں تو کہتے ہیں مجھ کو شرابی، زندگی ہے ہماری خرابی |
| میکدے سے ہمیں ہے محبت، اس جگہ دہر کے غم نہیں ہیں |
| میکدے سے محبت ہماری، شیخ صاحب کو کیوں ناگواری |
| واسطے تیرے مجھ کو بتادے، کیا یہ دیر و حرم کم نہیں ہیں |
| اپنی آنکھوں سے پردہ اٹھایا، دو جہاں تو نے اپنا بنایا |
| آج آنکھوں کے ہیں سارے مارے، تیری زلفیں جو برہم نہیں ہیں |
| میرے گھر غم کی برسات آئی، تیرے در تک ہوئی نارسائی |
| تجھ سے اے میرے مولا! گلے اب، بے رُخی کے ہمیں کم نہیں ہیں |
| آج احمدؔ ملا راستے میں، دیکھتے ہی زباں سے یہ نکلا |
| جانتے ہیں ہم اک دوسرے کو، پر وہ پہلے سے ہم تم نہیں ہیں |
معلومات