کل گزری مری نظروں سے تحریر کسی کی
اور گھوم گئی آنکھوں میں تصویر کسی کی
وا کر گئی ہے مجھ پہ وہ ماضی کے دریچے
شانوں پہ گری زلفِ گرہ گیر کسی کی
ہوتا ہے کسی لمس کا احساس مسلسل
لگتا ہے کہ یادیں ہیں بغلگیر کسی کی
میں کیا کروں اس کا کبھی سنتا نہیں میری
دل میرا نہیں جیسے ہے جاگیر کسی کی
اک عرصہ ہوا ترکِ تعلق کیے اس کو
پیروں میں مرے اب بھی ہے زنجیر کسی کی
بدلے نہیں میرے ابھی حالات مبشر
تقدیر بدل دیتی ہے تدبیر کسی کی

0