| وہ آدمی نہیں تھا، |
| وہ برف تھا۔ |
| چلتا تھا، بولتا تھا، مسکراتا بھی تھا— |
| مگر اندر کہیں کوئی موسم نہیں بدلتا تھا۔ |
| کہتے ہیں انسان آگ سے بنتا ہے، |
| خواہش کی آگ، محبت کی آگ، نفرت کی آگ— |
| مگر اس کے اندر تو جیسے صدیوں پہلے کوئی برفانی طوفان آیا تھا |
| اور سب کچھ منجمد کر گیا تھا۔ |
| لفظ ہونٹوں تک آتے، |
| مگر سانس کی ٹھنڈک سے جم جاتے۔ |
| وہ روتا بھی تو آنسو بہتے نہیں تھے، |
| بس آنکھوں میں ایک شفاف سی تہہ جم جاتی تھی— |
| جیسے کسی جھیل پر خاموش برف۔ |
| کوئی پتھر بھی مارے تو |
| لہریں نہیں اٹھتیں، |
| صرف ایک ہلکی سی دراڑ پڑتی ہے |
| جو اگلی سرد رات میں پھر بھر جاتی ہے۔ |
| لوگ کہتے تھے: |
| "تم اتنے بےحس کیوں ہو؟" |
| وہ ہنستا تھا۔ |
| کیونکہ انہیں کیسے بتاتا |
| کہ بےحسی اختیار نہیں ہوتی، |
| بےحسی تو حادثہ ہوتی ہے— |
| جب احساس حد سے بڑھ جائے |
| تو خود کو بچانے کے لیے |
| دل خود ہی منجمد ہو جاتا ہے۔ |
| اس کے کمرے میں دھوپ آتی تھی |
| مگر گرم نہیں کرتی تھی۔ |
| آئینہ دیوار پر لٹکا تھا |
| مگر عکس میں خون کی گردش نظر نہیں آتی تھی۔ |
| وہ اپنے ہاتھوں کو دیکھتا |
| اور سوچتا— |
| کیا کبھی ان میں حرارت تھی؟ |
| کیا کبھی کسی نے انہیں تھاما تھا |
| اس طرح کہ انگلیوں کی برف پگھل جائے؟ |
| محبت اس کے دروازے تک آئی بھی تو |
| وہ دروازہ کھول نہ سکا۔ |
| اسے ڈر تھا— |
| کہ اگر اندر کی سردی باہر نکل آئی |
| تو کوئی زندہ نہ بچے گا۔ |
| اور سچ تو یہ ہے |
| وہ برف کا انسان |
| کسی اور کو نہیں، |
| خود کو جمانے میں لگا ہوا تھا۔ |
| کیونکہ پگھل جانا |
| اس کے لیے مر جانے کے برابر تھا۔ |
| اور عجیب بات یہ ہے— |
| کہ کبھی کبھی |
| وہ خاموشی سے دعا کرتا تھا |
| کہ کوئی آتشِ بےنام آئے |
| اور اسے مکمل جلا دے۔ |
| برف رہنے سے بہتر ہے |
| راکھ ہو جانا۔ |
معلومات