| ماں تو الفت کا حسیں عنوان ہے |
| نہ کرے جو قدر وہ نادان ہے |
| اُف بھی مت کہنا، وَّلَا تَنْهَرْهُمَا |
| رب کا کتنا سخت یہ اعلان ہے |
| خود سکھایا رب نے رَبِّ ارْحَمْهُمَا |
| کیسی عظمت اور کیا ہی شان ہے |
| ماں کو دیکھے تو ثوابِ حج ملے |
| یہ رسول پاک کا فرمان ہے |
| ماں کے قدموں کے تلے جنت رکھی |
| بالیقیں یہ تو بڑا احسان ہے |
| ماں کا آنچل، آنچلوں سے خوب تر |
| جو محبت کا کھلا میدان ہے |
| ماں کی خدمت رات و دن دل سے کرو |
| رب کی خوش نودی کا یہ سامان ہے |
| اے منور تیری قسمت کیا ہی خوب |
| ماں کی شفقت اور دعا ہرآن ہے |
معلومات