نا سمجھ دل نہ محبت کی نشانی سمجھا
بیٹھ کر پاس اسے اپنی زبانی سمجھا
زخم سر سبز تھے پر اس کو دکھائی نہ دیے
نظم تازہ تھی مگر دوست پرانی سمجھا
غمِ جاں آنکھ میں آ بیٹھا ہے نم کی صورت
اس نے کس واسطے کی نقل مکانی ، سمجھا؟
عشق بیماری کا جز مرگ نہیں کوئی علاج
یہ کوئی وید ، مسیحا ، نہ گیانی سمجھا
سبھی کردار مرے سر سے گزر جاتے تھے
مر گیا ہیرو تو میں ساری کہانی سمجھا
بدگمانی کا شجر پھولتا پھلتا ورنہ
فکری غلطی کو میں دانستہ لسانی سمجھا
ہوئی تنقید تو ناقد کا میں سمجھا احساں
اور تحسین کو میں خیر گمانی سمجھا
اس کو دیکھا تو سمجھ آیا نظر کا مصرف
اس کو چوما تو حلاوت کے معانی سمجھا
حسرتیں بعد میں بن جاتی ہیں ناسور قمرؔ
اور یہ عمر نہیں لوٹ کے آنی ، سمجھا؟
قمرآسیؔ

0