صبر و وفا جو کر کے دکھایا حسین نے
"رب کی رضا کا راز بتایا حسین نے"
روتے ہیں آج تک بھی وفا دار امتی
نانا کو اپنے ایسا رلایا حسین نے
ہو کر شہید وعدہِ مادر کیا وفا
چلنا وفا کی راہ سکھایا حسین نے
کرتا انھیں شہید یہ کس کی مجال تھی
قاتل کو اپنے خود ہی بُلایا حسین نے
عرفانِ ذات و دین تھی تجھ کو نصیب کب
ہر راز اے ذکیؔ ہے کُھلایا حسین نے

0
2