| فرصتِ دید نہیں حسرتِ بے باک نہیں |
| پھر بھی دیکھو تو سرِ طور بلانا دل کا |
| سانس جب رک نہ سکے جل نہ سکے یہ دامن |
| کیا ضروری ہے کوئی پھر یہ لگانا دل کا |
| چند لمحوں میں بھلا کیسے سنا دیں تم کو |
| ایک مدت کا ہے اے یار فسانا دل کا |
| دل پہ بھی کوزہ گرو چاک ذرا سا کھینچو |
| کب تلک زخم پہ ہو ہاتھ چلانا دل کا |
| مدعا رختِ سفر یہ تو مسافر جانے |
| راستہ کب کوئی سمجھا ہے تھکانا دل کا |
| میکدہ بھی نہ ملا غم کو مٹانے کے لیے |
| چشمِ میخانہ بنا جب سے ٹھکانا دل کا |
| دردِ حاصل کی دوا تو ہی میسر ہو جا |
| لوگ چاہیں گے نہ آرام یہ پانا دل کا |
| چھوڑ دو آس تمہیں وہ تو نہ آئیں گے کبھی |
| یار اب بیت گیا ایک زمانا دل کا |
معلومات