آنکھیں مری ہونے لگیں نم اور زیادہ
جب مجھ پہ بڑھا ان کا ستم اور زیادہ
مصروف سخن غیر سے ہم نے اُسے پایا
بڑھنے لگی بیتابئ غم اور زیادہ
میں لکھتا گیا اور وہ مٹاتا گیا ہربار
قابل یوں ہوا میرا قلم اور زیادہ
آبیٹھ کہ جی بھر کے تجھے دیکھ لوں ہمدم
باقی نہیں ہیں اب مرے دم اور زیادہ
سر ہا نے میں بیٹھا ہوں فقط ایک غرض سے
شاید کہ وہ فرمائیں کرم اور زیادہ
تم جتنا دباؤ گے ہمیں اپنی جفا سے
بولیں گے تقیؔ! اُتنا ہی ہم اور زیادہ

0
4