میلاد کے مُنکر یہ تو بتا میلاد سے مسئلہ تُجھ کو کیا؟
ہر آن ہے ایک ہی رَٹ تیری ہر آن ہی بدعت کا فتوی
عینک یہ تعصّب کی تُو اُتار دِل سے بھی نفرت کو تُو نِکال
اب غور سے سُن تُو بات مِری اور اِس پر اپنا دِماغ لڑا
ہوتا ہے تلاوت سے آغاز مِلتا ہے قلب کو سوز و گُداز
قرآن میں حکم تلاوت کا تُو اُلٹی منطق میں اُلجھا
پھر نعتِ نبی ہم سُنتے ہیں یُوں عِشق کے موتی چُنتے ہیں
حَسّان قصیدے پڑھتے جب سرکار خوشی سے دیتے دُعا
اسٹیج پہ عالِم آتے ہیں سیرت کے پہلو سکھاتے ہیں
سُنّت پہ عمل کا جذبہ مِلے ہے تیرے دِل میں کیا کھٹکا؟
اب ذکر دُعا و صلوة و سلام آخر میں پھر معقول طَعام
میلاد میں یہ سب ہوتا ہے اور کُچھ بھی نہیں ہے اِس کے سِوا
سب کام صحابہ نے بھی کِئے قرآن سے سب احکام مِلے
زیرکؔ کو بتا پھر بدعت کا میلاد پہ کیسے لگے فتویٰ؟

0
4