| کس ادا سے وہ لجایا تھا، ہاں کہتے کہتے |
| وہی لمحہ مجھے تڑپائے ہے، رہتے رہتے |
| گل بیاں کرتے نہیں رازِ نہاں گلچیں سے |
| مسکراتے ہیں چبھن خار کی سہتے سہتے |
| غم مرے دل میں ہی دریا سا رواں رہتا ہے |
| اشک کب رکتے ہیں تنہائی میں بہتے بہتے |
| کون کہتا ہے محبت کا سفر آساں ہے؟ |
| ہم تو جلتے ہی رہے آگ پہ چلتے چلتے |
| زندگی خاک جیے وقت سے سودا کر کے |
| بس گزارا اسے حالات سے لڑتے لڑتے |
| اب کے گلشن میں بہاروں کا گزر تک نہ ہوا |
| خار اگ آئے ہیں، گل رہ گئے کھلتے کھلتے |
| وقت بھر دیتا ہے ہر زخم، مگر ہائے کنولؔ |
| زخمِ دل اور بھی گہرا ہوا، ڈھلتے ڈھلتے |
معلومات