| وقت ناکام رہا زخم کو بھرتے بھرتے |
| سوزِ دل اور بڑھا عمر کے ڈھلتے ڈھلتے |
| بے سبب کتنی برستی ہی رہیں گی آنکھیں |
| تھک گئے اشک مری چشم سے بہتے بہتے |
| عمر بھر جس کی وفاؤں کے قصیدے لکھے |
| اجنبی جیسا ملا راہ میں چلتے چلتے |
| گل نہیں کہتا کسی سے کبھی اپنا دکھ سکھ |
| ہنستا رہتا ہے چبھن خار کی سہتے سہتے |
| کیوں ہواؤں نے سجا رکھی ہے چہرے پہ نقاب |
| گُل ہوئے کتنے دیے راہ میں جلتے جلتے |
| آج گلچیں سے ہی نالاں ہیں سبھی اہلِ چمن |
| رنگ پھولوں کا اڑا جاتا ہے کھلتے کھلتے |
| کون ہے جس نے مصائب کو نہیں جھیلا ہے |
| سب سکندر یہاں جیتے رہے لڑتے لڑتے |
| ایک چنگاری عداوت کی ہے کافی، اے کنولؔ |
| راکھ کر دے نہ وہ گلشن مرا جلتے جلتے |
معلومات