| پاؤں کے نیچے آگ بچھی ہو جھونکا ہوا کا وار کرے |
| کون ہے جو ایسے رستے پر جینے کا اقرار کرے |
| جو بھی سمجھ لے وقت کی سازش لوگوں کو ہشیار کرے |
| روزن روزن آنکھیں رکھ دے بات پسِ دیوار کرے |
| قطرہ قطرہ رات گھلی ہے نیند سے ترسی آنکھوں میں |
| کوئی اٹھے اور گلیوں گلیوں خوابوں کا بیو پار کرے |
| زندہ ہو تو احساسِ غزل سے جان چھڑانی مشکل ہے |
| جیسے کوئی ضدی بچہ سونے سے انکار کرے |
| کچھ نعرے کچھ درسِ بغاوت شہروں کی دیواروں پر |
| سناّٹا تحریک چلائے ہنگامہ بازار کرے |
| شاعرِ بغاوت کے گیتوں کی جو آواز ابھرتی ہے |
| لفظوں میں شعلوں کی لپک ہے لحظہ بھی جھنکار کرے |
معلومات