| جِن کے بچے ہو گئے چار، گھر سے ڈھونڈیں راہِ فرار |
| کیسی محبت کیسا پیار، بھول گئے سب قول قرار |
| لاتوں کے بھوت نہ مانیں بات، باتوں میں ہم کو دے دیں مات |
| طیش میں لاتے ہیں جذبات، خون کا کر دیں بُلند فِشار |
| کھانا اِن کو کِھلانا توبہ، وقت پہ ان کو سُلانا توبہ |
| صبح میں ان کو جگانا توبہ، ہر دَم طاری اِن پہ خُمار |
| ہر اک بات پہ ان کی لڑائی، کون کرائے صلح و صفائی |
| دیتے ہیں ان کو خدا کی دُہائی، سُن کر ان کی چیخ و پُکار |
| چھوڑ کہ پھر اسکول سے لانا، شام کو مدرَسَہ آنا جانا |
| باپ کا دن بھر پھیرے لگانا، ٹیکسی بن گئی اس کی کار |
| چُور تھکن سے ماں اور باپ، ان کی سروس نان اسٹاپ |
| تول نہ اس کو نہ تُو ماپ، کوئی حساب نہ کوئی شُمار |
| نندیا پور سے نیند پُکارے، مُجھ کو بھی آئیں خوب ہُلارے |
| سوئیں نہ زیرکؔ بچے سارے، نیند کی کیسے سُنوں میں پُکار |
معلومات