آن کی آن میں آگ نے دیکھو، آنگن کو سُنسان کِیا
مالی کے گُلشن کو دم میں، بنجر ریگستان کِیا
اپنے سُہاگ کے سپنے سجائے، جوڑا عُرُوسی خریدا تھا
کیا معلوم کہ موت کا اپنی، دُلہن نے سامان کِیا
بند کواڑ جو کھول نہ پائے، آس لگائی کھڑکی پر
آہ سلاخوں نے تھا جکڑا، ظلم یہ کیا نادان کِیا
تن یہ خاکی راکھ بنا ہے، ٹوٹی ہڈیاں بکھری ہیں
کوئی بتائے کون جلا ہے؟ آگ نے سب یکجان کِیا
کتنا ہے پُر سوز یہ منظر، لفظ زباں پر آتے نہیں
اَشکوں سے ہم نے تو اپنے، دل کا حال بیان کِیا
مولا کھول عطا کے خزانے، بھر دے جھولی خوشیوں سے
گھاؤ غموں کے پھر سے بھر یں گے، ہم نے یہی ارمان کِیا
رزق کا وَعدہ رب نے کِیا ہے، بخشش کا تو وَعدہ نہیں
بھول گیا زیرکؔ جو مقصد، اُس نے ہے نُقصان کِیا

0
7