ذکرِ حق کرتا ہوا سوئے جناں تھا قافلہ
ماؤں کی آہ و فغاں کا ترجماں تھا قافلہ
​ظلم کے آگے پہاڑِ بے گراں تھا قافلہ
ہر بلا میں حق کا اک روشن بیاں تھا قافلہ
​باطل و سرکش پہ مثلِ بجلیاں تھا قافلہ
اب قیامت تک رہے گا جاوداں تھا قافلہ
​بحرِ ظلمت میں چراغِ ضوفشاں تھا قافلہ
کر رہا ہے ذکرِ شاہِ کربلا اب شاعرِ "ساز"
حق کی نصرت کا نشانِ جاوداں تھا قافلہ

0
2