عارفِ رازِ خدا ہیں عارفانِ کربلا
سب کے سب اہلِ خدا ہیں عاشقانِ کربلا
ہیں محمد اور علی جب باغبانِ کربلا
ہے بہارِ دینِ دائم گلستانِ کربلا
حشر تک باقی رہے گی داستانِ کربلا
اس طرح سے ہو گیا رب میزبانِ کربلا
کرتا ہے ایمان پُختہ آستانِ کربلا
رکھتی ہے اسلام باقی یہ ہے شانِ کربلا
مٹ گئیں مٹ جائیں گی سب داستانیں پر ذکیؔ
حشر تک باقی رہے گی داستانِ کربلا

0
3