یاد میں تری جینا
یاد میں تری مرنا
کام بس یہی کرنا
نام بس ترا جَپْنا
ہے کلا تری ادبھد
اس کا میں ہوں دیوانا
آس ہے تری مجھ کو
بس یہی مرا جینا
روپ کا پجاری ہے
اس کو اور نہ تڑپانا
کب تلک یوں چھوپو گے
مکھڑا اب دکھا جانا
میں کروں ترا درشن
پائوں میں تجھے ہر جا
ہے ارج یہی تم سے
اس کو بھول نا جانا
موں نہ موڑنا اس سے
بس بنائے رکھ اپنا
حشر میں یہی کہنا
اعتباؔر ہے میر

4