| ذکر ان کا ہو رہا ہے کو بہ کو |
| خوشبوؤں سے پُر فضا ہے کو بہ کو |
| اسم احمد سے منور کائنات |
| نور یہ پھیلا ہوا ہے کو بہ کو |
| تیرے آنے سے بہاریں آگئیں |
| قریہ قریہ سج گیا ہے کو بہ کو |
| مانگے بن ہی سب کی جھولی بھر گئی |
| بٹ رہی ایسی سخا ہے کو بہ کو |
| آپ کے فضل و کرم کی دھوم ہے |
| آپ کی جود و عطا ہے کو بہ کو |
| وجہِ تخلیقِ جہاں بس آپ ہیں |
| آپ کا ڈنکا بجا ہے کو بہ کو |
| نعمتیں دونوں جہاں کی مل گئیں |
| صدقہ ان کا بٹ رہا ہے کو بہ کو |
| جو اٹھا تیری گلی سے بد نصیب |
| دربدر پھرتا رہا ہے کو بہ کو |
| رفعتِ ذکرِ نبی تو دیکھئے |
| چرچا ان کا جابجا ہے کو بہ کو |
| ہر زمانہ ہے مرے سرکار کا |
| ان کا سکہ چل رہا ہے کو بہ کو |
| جانتا تھا کون، عاصی ناز کو |
| نعت نے چرچا کیا ہے کو بہ کو |
معلومات