الوداعِ سیاہ شب ہے اے دوست
صبح کا اہتمام ہے اے دوست
ہوش کے پاؤں لڑکھڑاتے ہیں
اور جنوں تیز گام ہے اے دوست
اب کے انجام دیکھنا کیا ہو
پھر نظر سوئےبام ہے اے دوست
یہ جو چپ چاپ رات پھیلی ہے
اس کے اندر پیام ہے اے دوست
تو نے اب تک نہ اس کو پہچانا
وہ سخن کا مقام ہے اے دوست
حق کی خاطر جو سر اٹھاتا ہے
وقت کا وہ امام ہے اے دوست
شاعر اہلِ خرد سے پوچھ ذرا
کون کس کا غلام ہے اے دوست

8