زخمِ جاں سے شریر کھینچتا ہے
سانس منکر نکیر کھینچتا ہے
جب بھی چھوتا ہے جسمِ خستہ کو
معجزے کی لکیر کھینچتا ہے
میں بھی اس کو لہو لہان کروں
مجھ کو میرا ضمیر کھینچتا ہے
میں تو بس اک خطا کا پتلا ہوں
میری قسمت فقیر کھینچتا ہے
بھوک تک ہے غریب کا سایہ
عیش و عشرت امیر کھینچتا ہے
پیش آؤں میں بھی بدی سے کیوں
سب کو اپنا خمیر کھینچتا ہے
میرے شعروں کے ہر تخیل میں
قافیے صرف میر کھینچتا ہے
ساگرؔ اب کس طرف کو جاؤں میں
ہر طرف کوئی تیر کھینچتا ہے

0
5