خوشی میں محبت کا سہرا بنا ہے
میرا بھائی اعجاز نو شہ بنا ہے
خدا کی عنایت کا ہے یہ کرشمہ
ہے سنت پہ گویا عمل کا یہ جذبہ
مبارک ہو تم کو یہ شادی کا تحفہ
بہت خوبصورت یہ دولہا سجا ہے
تیرے والد محترم کی دعا کی ہے
تمنا ہے امی کی اور التجا ہے
عطا چاند جیسی تجھے ہمسفر ہو
سدا خوش رہو تم یہ ماں کی دعا ہے
مسرت کی محفل سجائی گئی ہے
خوشی میں مگن آج بہنا تیری ہے
صنور کے لب پر خوشی کا ہے نغمہ
چمن میں ہر اک سو یہ چرچہ ہوا ہے
تیرے بھائی ناظم نے گھر کو سجایا
خوشی جھوم اٹھی یہ دل مسکرایا
ہیں یہ استخارآج آصف دعا گو
ہے گھر جس سے روشن تو ایسا دیا ہے
گلاب اور گل ہے کنول جیسی دلہن
یہ پیارے حسیں دو دلوں کا ہے بندھن
ہیں اعجاز شاداں ترنم سے مل کر
مبارک ہو تجھ کو سہانا سماں ہے
اُدھر حور کردار پردہ نشیں ہے
ہے وہ باوفا باحیا دلنشیں ہے
اِدھر چاند سہرے میں اپنا چھپا ہے
جو ہے باصفا جس کی سیرت جدا ہے
بڑی الفتوں سے بنایا گیا ہے
حسیں گل سے سہرا سجایا گیا ہے
تبسم بھی نرگس ہے ایمن دعا گو
مبارک ہو تجھ کو سہانا سماں ہے
نعیم آج ہیں یہ دعا گو ہمہ تن
مہکتا رہے تیری خوشیوں کا گلشن
ترے سب اقارب بڑے شادماں ہیں
گھڑی پُر مسرت ہے ارماں جواں ہیں
ملن دو دلوں کا رہے تا قیامت
رہے نظرِ بد سے یہ رشتہ سلامت
ہو دونوں گھرانے میں الفت خدایا
یہ گلزار کی مختصر التجا ہے
کھڑا ہر قدم پرکوئی فتنہ گر ہے
سنو تم نہایت کٹھن رہ گزر ہے
گناہوں سے دامن تم اپنا بچانا
رسولِ خداﷺ کو نمونہ بنانا
پیامِ ہدایت یہ سہرا بنا ہے

0
3