کیا ہو جواد سے گدا ناراض
سو نہ میں وقت سے ہوا ناراض
اسے بھی چاند سے رہا شکوہ
خود سے میں بھی سدا رہا ناراض
تُو خفا ہے تو ایسا لگتا ہے
دل سے دھڑکن ہے دوستا ناراض
میں نے بچوں کو روٹھنے نہ دیا
ہو نہ جائے کہیں خدا ناراض
جیسے کرتا ہے خود کشی کوئی
اسے دانستہ کر دیا ناراض
وہ کہ ہوتا کبھی نہیں تھا خوش
میں کہ ہوتا کبھی نہ تھا ناراض
دیکھنا خود مجھے منائے گا
لوٹ آئے گا جب مرا ناراض
دیکھ کر حال جینے والوں کا
زندگی سے ہوئی قضا ناراض
لکھ رہا کیوں نہیں حقیقتِ زیست
ہے قمرؔ سے قلم بجا ناراض
قمرآسیؔ

0
3