اپنے خوابوں کے جنازے نہیں اچھے لگتے
دل کو ، یارو کے دلاسے نہیں اچھے لگتے
ہم ہیں خاموش ہمیں ایسے ہی تم رہنے دو
غم میں گلیوں کے تماشے نہیں اچھے لگتے
زندگی مانگ نہ ساقی سے شراب و مینا
مانگتے بھیک یوں پیاسے نہیں اچھے لگتے
سحر تک خون نہیں باقی اگر جلنے کو
پھر گلے تیرے ہوا سے نہیں اچھے لگتے
من کو مطلب ہی نہیں بستی کے دیوانوں سے
بت جو ہاتھوں کے تراشے نہیں اچھے لگتے
ہم نے اجڑے ہوئے دیکھے ہیں بہاروں میں گل
بانٹتے لوگ بتاشے نہیں اچھے لگتے
راہ دشوار محبت کی ہے شاہد لیکن
در بدر دشت میں لاشے نہیں اچھے لگتے

0
1