| شیشَۂ دل ہوں، سنبھل کر ہی اٹھانا مجھ کو |
| بے دھَیانی میں کہیں توڑ نہ جانا مجھ کو |
| میں بکھر جاؤں تو پھر جمع نہ ہو پاؤں گا |
| اتنی آسانی سے ہرگز نہ گنوانا مجھ کو |
| ایک مدت سے ہوں خاموش دعا کی صورت |
| اپنی آواز میں اک بار بلانا مجھ کو |
| میری آنکھوں میں کئی خواب ابھی زندہ ہیں |
| نیند آ جائے تو آہستہ جگانا مجھ کو |
| میں نے اپنوں سے ہی اکثر یہ سزا پائی ہے |
| اب کسی غیر کے ہاتھوں نہ گرانا مجھ کو |
| دل کی دہلیز پہ برسوں سے پڑا ہوں تنہا |
| اپنے گھر کی طرح اک روز سجانا مجھ کو |
| وقت کی دھوپ نے ہر رنگ مٹایا ساگرؔ |
| اب فقط زخم ہوں، دل سے نہ لگانا مجھ کو |
| شاعر: ساگر حیدر عباسی |
معلومات