| اے نُورِ مُطلَق! دے نُور ایسا، کہ تیرا نُورِ جَمال دیکھوں |
| میں نُورِ عشقِ مُحمدیؐ سے، ضِیائے حُسنِ جَلال دیکھوں |
| وہ سُرخ جوڑے میں جَلوہ فرما، تھی چاندنی بھی اُنہی پہ قُرباں |
| وہ حُسنِ یَکتا ہیں میرے آقؐا، کہ جس کا ثانی مُحال دیکھوں |
| تھا کَنْزِ مَخْفِیْ، تو چاہتیں تھیں، کہ دیکھوں خُود کو، دِکھاؤں خُود کو |
| دِکھادے مُجھ کو وہ کَنْزِ مَخْفِیْ، کہ چاہتوں کا کَمال دیکھوں |
| "بَلٰی" کا عہدِ قَدیم سُن کر، یہ میرے مَن میں ہے شوق اُبھرا |
| "اَ لَسْت" جس نے کہا تھا مُجھ سے، وہ ذَاتِ باری تَعال دیکھوں |
| وہ کہَہ رہا ہے زَمانہ مَیں ہوں، یہ نُورِ اَرض و سَما بھی مَیں ہوں |
| صَدائے کُنْ ہے اَزل سے جاری، اُسی کو فاعِل فَعال دیکھوں |
| یہ کیسی مَستی ہے تیری جاناں، مَتاعِ ہَستی لُٹا رہے ہیں |
| یہ مَست عاشق، یہ تیرے مَجنوں، کَٹا کے سَر کو نہال دیکھوں |
| میں طُورِ سِینا کو جا رہا ہوں، عَجب تَماشا لگا رہا ہوں |
| جَلا کے خُود کو تجلّیوں سے، میں خُود کا رَقصِ دَھمال دیکھوں |
| شَرابِ وَحدت پلاؤ مجُھ کو، شَبابِ اَقدس دِکھاؤ مُجھ کو |
| پلادو مُجھ کو وہ جامِ اُلفت، کہ مَست بَحر و جِبال دیکھوں |
| جَلا رَہی ہے یہ بے قَراری، رَہے گی کب تک یہ پَردہ داری |
| ہَٹا کے خاکی حجاب سارے، میں تُجھ کو رُوح میں سَنبھال دیکھوں |
| بسے ہو ایسے مِری نَظر میں، کہ دیکھوں تُم کو نَظر نَظر میں |
| تِری نَظر سے جو خُود کو دیکھوں، میں خُود کو تیرا خیال دیکھوں |
| ملے ہیں جَب سے یہ میرے خواجؒہ، تلاشِ حق کی تڑپ لگی ہے |
| فَنا کی مُجھ میں طَلب ہے جاگی، اَبھی سے خوابِ وِصال دیکھوں |
معلومات