لوگ ایسے بھی ہیں زمانے میں
لطف پاتے ہیں جو ستانے میں
​
آسماں کی نوازشوں سے کہو
ہم ہیں مشاق چوٹ کھانے میں
​
آپ نے صرف دل ہی توڑا ہے
ہم تو راضی تھے جاں لٹانے میں
آپ نے مسکرا کے کیا دیکھا
لگ گئے لوگ پیچ کھانے میں
​
رنج سارے بھلا کے آج کنولؔ
وہ لگا پھر سے مسکرا نے میں
بحر: خفیف مسدس مخبون محذوف
مقطوع
ارکان : فاعِلاتن مفاعِلن فِعْلن

0
3