| لوگ ایسے بھی ہیں زمانے میں |
| لطف پاتے ہیں جو ستانے میں |
| |
| آسماں کی نوازشوں سے کہو |
| ہم ہیں مشاق چوٹ کھانے میں |
| |
| آپ نے صرف دل ہی توڑا ہے |
| ہم تو راضی تھے جاں لٹانے میں |
| آپ نے مسکرا کے کیا دیکھا |
| لگ گئے لوگ پیچ کھانے میں |
| |
| رنج سارے بھلا کے آج کنولؔ |
| وہ لگا پھر سے مسکرا نے میں |
| بحر: خفیف مسدس مخبون محذوف |
| مقطوع |
| ارکان : فاعِلاتن مفاعِلن فِعْلن |
معلومات