اُن کی تَجلّیوں میں ایسا سُرُور ہے
مُوسٰیؑ پہ بیخُودی ہے مَستی میں طُور ہے
اُن کی تَجلّیوں پے قُرباں ہوں اِس لیے
اُن کی تَجلّیوں سے نُورِ حُضورؐ ہے
مُجھ میں دَمَک رہی ہیں اُن کی تَجلّیاں
میرا بھی اُن سے کوئی ناتہ ضَرُور ہے
عشقِ بُتاں سے ہم کو عِرفان یہ مِلا
حُسنِ بتاں بھی اُن کا حُسنِ ظُہُور ہے
جَھلکے ہے حُسنِ جاناں تیرے شَباب سے
خُود کو اگر نہ دیکھا تیرا قُصُور ہے
کیا فاصلہ ہے دیکھو اُن کے حُضُور سے
حَبلِ وَرِید تُجھ سے کِتنا ہی دُور ہے
مِٹّی کے اے کِھلونے ٹُوٹے گا ایک دن
ہَستی ہے خاک تیری کیسا غُرُور ہے
عاصِی نہ کر تَفاخُر اپنے گُناہ پر
دو اَشک ہی بَہا لے رَب تو غَفُور ہے
تسبیح میں مَگن ہیں ذَرّے یہ خاک کے
بے جان چیز کو بھی کتنا شُعُور ہے
اِعلان ہو رہا ہے رَحمت سمیٹ لو
پھیلاؤ اپنی جھولی وقتِ سَحور ہے
حافظ کو دیکھتے ہی مولا نے یوں کہا
میرا یہی تو شاکر عبدِ شَکور ہے

35