| رمق الم کی جو شامل مری خوشی میں بھی ہے |
| نمو کا راز مری آنکھ کی نمی میں بھی ہے |
| میں آنکھ بھر کے اُسے دیکھ کیوں نہیں سکتا |
| نظر بھی ٹھیک ہے میری، وہ روشنی میں بھی ہے |
| موازنہ نہیں بنتا ہے بلبل و گُل سے |
| وہ حُسن صوت میں مفردہے، دل کشی میں بھی ہے |
| براے لمس نہ بدنام کر محبت کو |
| کہ آج کل یہ سہولت تو دوستی میں بھی ہے |
| گلابِ تازہ کو شبنم کی کیا ضرورت تھی؟ |
| حسین تر تُو مری جان سادگی میں بھی ہے |
| خیال کافی ہے یعنی براے شعر ترا |
| تری کمی کا تسلسل تو زندگی میں بھی ہے |
| تجھے جو اہلِ نظر داد سے نوازتے ہیں |
| کوئی تو بات قمر تیری شاعری میں بھی ہے |
| قمرآسیؔ |
معلومات