| چند ملاقاتیں تھیں— |
| گنتی کی، مختصر، جیسے کسی دعا کے بعد کا آمین۔ |
| مگر ان ہی لمحوں میں |
| اس نے میرے دنوں کی ترتیب بدل دی۔ |
| میں اس کے سامنے کبھی کھل کر مسکرا نہ سکا۔ |
| لفظ ہونٹوں تک آئے، |
| مگر اجازت نہ ملی۔ |
| نگاہیں اٹھیں بھی تو |
| بس اتنی دیر کے لیے |
| کہ دل کو یقین ہو جائے— |
| وہ واقعی موجود ہے۔ |
| میں نے چاہا |
| کہ ایک دن ٹھہر کر |
| اس سے وہ سب کہہ دوں |
| جو دل کے اندر دھڑکنوں کی صورت جمع ہے۔ |
| مگر جب چاہا— |
| وہ میری آنکھوں سے اوجھل ہو گئی۔ |
| اور عجیب بات یہ ہے |
| کہ اس کے جانے کے بعد |
| وہ پہلے سے زیادہ موجود ہے۔ |
| میرا دل اب ایک بےقرار پرندہ ہے |
| جو ہر آہٹ پر چونک جاتا ہے، |
| ہر چہرے میں اسی کا عکس ڈھونڈتا ہے۔ |
| میں خود سے پوچھتا ہوں— |
| یہ کیا تھا؟ |
| چند ملاقاتوں کا اثر |
| یا کوئی نامکمل دعا |
| جو قبول ہو کر بھی ادھوری رہ گئی؟ |
| رقیہ، |
| تم نے شاید کچھ نہیں کیا— |
| بس چند لمحے میرے ساتھ چلیں۔ |
| مگر انہی لمحوں میں |
| میری خاموشی کو معنی مل گئے، |
| اور میری تنہائی کو ایک نام۔ |
| اگر کبھی پھر ملاقات ہوئی |
| تو میں شاید پھر بھی زیادہ نہ بول سکوں— |
| مگر اس بار |
| میں مسکرانے کی پوری کوشش کروں گا۔ |
| کیونکہ تم واقعی |
| ایک کرامت کر گئی ہو— |
| بغیر کچھ کہے |
| میرے دل کو اپنے نام کر کے۔ |
معلومات