کس مُنہ سے اے خُدا تِری حمد و ثَنا کروں
مُنہ کو چُھپائے شَرم سے آہ و فُغاں کروں
" قَالُوْا بَلٰى" تو کَہہ گیا جوشِ خطاب میں
عاجِز اَزل سے ہوں کہ یہ وَعدہ وَفا کروں
اِقرار کر رہا ہوں اَبھی سے گُناہ کا
کوئی نہیں بَہانہ جو روزِ جَزا کروں
آنا ہے ایک روز تِری بارگاہ میں
تُحفے میں اَشک لاؤں کہ تُجھ پر فِدا کروں
سَر کو جُھکائے آپ کا دیدار میں کروں
عکسِ جمالِ نُور سے دِل میں ضِیا کروں
ہرگز جُدا نہیں ہے عکّاس عَکس سے
خُود کو بَھلا میں کیوں کر تُجھ سے جُدا کروں
صورت مِری نجات کی بس ایک ہے یہی
نعتِ رسولِؐ پاک میں پیشِ خُدا کروں

0
8