| جھلس کر بھسم ہونا چاہتی ہے |
| محبت زخم ہونا چاہتی ہے |
| پگھل کر دھیرے دھیرے حسرتِ جاں!! |
| اب آبِ چشم ہونا چاہتی ہے |
| مرے افکار میں تحلیل ہو کر |
| وہ میری نظم ہونا چاہتی ہے |
| سرکتا پردہ اس کا کہہ رہا ہے |
| وہ نازِ بزم ہونا چاہتی ہے |
| نگاہوں سے ہٹے جاتے ہیں پردے |
| کہانی ختم ہونا چاہتی ہے |
| کہ سر ہونے کو کوئی بھی بلندی |
| مصمم عزم ہونا چاہتی ہے |
| بھروسہ کا بھرم ٹوٹا ہے راہیؔ! |
| رفاقت ختم ہونا چاہتی ہے |
معلومات