| بس رہا ہوں میں تری یادوں کے ویرانے میں |
| اب نہیں کوئی صنم دل کے صنم خانے میں |
| میں تو بیٹھا ہوں اِدھر پینے کو میخانے میں |
| اور اُدھر شوقِ جنوں کتنا ہے پروانے میں |
| کیا کروں گا میں تری بزم میں جا کے آخر |
| میں تو اپنے میں ہی شامل ہوں نہ بیگانے میں |
| اٹھ رہی ساغر و مینا سے ہے سب موجِ شراب |
| گرم ہنگامہ ہے ساقی ترے میخانے میں |
| آپ کیا جانیں بھلا ٹوٹے ہوۓ دل کی صدا |
| چوٹ تک کھائی نہیں آپ نے انجانے میں |
| رہ گیا کتنا سمٹ کر مرے دل کا محور |
| ہوں کبھی در پہ تمہارے کبھی میخانے میں |
| ساقیا خالی سمجھ کر نہ اٹھا سامنے سے |
| بس رہا ایک ہے عالم مرے پیمانے میں |
| جل بجھا سوزِ محبت سے خود اپنا ہی دل |
| کچھ نہیں اب ہے مرے دل کے نہاں خانے میں |
| لوگ گردانتے مجنوں نہ کبھی پھر اس کو |
| عقل ہوتی جو ذرا سی ترے دیوانے میں |
| بس یہی سوچ کے چپ ہوں میں تری محفل میں |
| رنگ بھر دوں نہ حقیقت کا میں افسانے میں |
| بوند ہر مے کی ہے اک قطرہ لہو کا میرا |
| درد ہی درد ہے ساقی مرے پیمانے میں |
معلومات