لطفِ احمد اتم رہ گئے
اپنے ہر جا بھرم رہ گئے
اب بھی یثرب، مدینہ ہی ہے
یاں پہ شاہِ امم رہ گئے
جب نبی پر حصار آ پڑا
ساتھ میں ان کے عَم رہ گئے
شق کِئے جب نبی چاند کو
سب کی آنکھوں میں دم رہ گئے
سر نبی کو پسند آگئے
سر جو تسلیمِ خم رہ گئے
سر پہ دستِ نبی دیکھ کر
خوف میں خوف و غم رہ گئے
جامِ کوثر نبی سے ملا
دنگ سب جامِ جم رہ گئے
فرشِ غارِ حِرَا دل بنے
جس پہ نقشِ قدم رہ گئے
دل بنا دل ہے اب اس میں جو
شاہِ عرب و عجم رہ گئے
دل میں عشقِ نبی بس گیا
"آئنہ بن کے ہم رہ گئے"
جب بھی آیا خیالِ نبی
ہم بہ چشمانِ نم رہ گئے
جب خیالوں میں آئے نبی
پھر سے ہم سَم کے سَم رہ گئے
عشقِ احمد میں جتنا بڑیں
ایسا لگتا ہے کم رہ گئے
پایا جب رب کو عشقِ نبی
حیراں ہوش و فَہَم رہ گئے
حشر میں حشر ہوگا حَسِیں
نعت میں گر قلم رہ گئے
اے ذکیؔ مست بس نعت میں
ہم خدا کی قسم رہ گئے

0
2