جتنا سمجھ رہا ہے تو اتنا نہیں ہوں میں
سچ ہے برا ہوں، اتنا زیادہ نہیں ہوں میں
تو بے حجاب آ تو سہی میرے سامنے
غش آۓ گا نہ مجھ کو، کہ موسیٰ نہیں ہوں میں
کرتا ہوں چشم پوشی میں اس کی خطاؤں پر
اور وہ سمجھ رہا ہے سمجھتا نہیں ہوں میں
دکھ اس کا ہے کہ میں کبھی تیرا نہ ہو سکا
ورنہ تو اس جہان میں کس کا نہیں ہوں میں
بندہ ہوں ایک کا ، تو ہوں قائل بھی ایک کا
سو ہر کسی کو دل میں بساتا نہیں ہوں میں
ہے مجھ میں آج بھی وہی لڑ نے کا حو صلہ
زخمی ہوا ضرور ہوں، ٹوٹا نہیں ہوں میں
اس سنگ دل کی یاد مرے چاروں اور ہے
تنہا رہوں بھی تو کبھی تنہا نہیں ہوں میں
جس میں خلاف بات ہو تیرے وقار کے
واللہ ایسی بزم میں جاتا نہیں ہوں میں
ہوتی نہیں ہے ان میں مروت ذرا تقیؔ
سو ان بتوں سے دل کو لگاتا نہیں ہوں میں

0
2
19
بہت خوب

حوصلہ افزائی کے لئے شکریہ سرجی

0