| جتنا سمجھ رہا ہے تو اتنا نہیں ہوں میں |
| سچ ہے برا ہوں، اتنا زیادہ نہیں ہوں میں |
| تو بے حجاب آ تو سہی میرے سامنے |
| غش آۓ گا نہ مجھ کو، کہ موسیٰ نہیں ہوں میں |
| کرتا ہوں چشم پوشی میں اس کی خطاؤں پر |
| اور وہ سمجھ رہا ہے سمجھتا نہیں ہوں میں |
| دکھ اس کا ہے کہ میں کبھی تیرا نہ ہو سکا |
| ورنہ تو اس جہان میں کس کا نہیں ہوں میں |
| بندہ ہوں ایک کا ، تو ہوں قائل بھی ایک کا |
| سو ہر کسی کو دل میں بساتا نہیں ہوں میں |
| ہے مجھ میں آج بھی وہی لڑ نے کا حو صلہ |
| زخمی ہوا ضرور ہوں، ٹوٹا نہیں ہوں میں |
| اس سنگ دل کی یاد مرے چاروں اور ہے |
| تنہا رہوں بھی تو کبھی تنہا نہیں ہوں میں |
| جس میں خلاف بات ہو تیرے وقار کے |
| واللہ ایسی بزم میں جاتا نہیں ہوں میں |
| ہوتی نہیں ہے ان میں مروت ذرا تقیؔ |
| سو ان بتوں سے دل کو لگاتا نہیں ہوں میں |
معلومات