قسمتوں میں ہماری جیل میاں
راحتیں آپ کی رکھیل میاں
طوق فولاد کا ہے گردن میں
ناک میں چھبتی سی نکیل میاں
ہم کو آتی ہے عقل لاٹھی سے
سوچ لینے گئی جو تیل میاں
رانی حاکم پلے ہیں نازوں میں
بن کے دکھ فاختہ کے جھیل میاں
قیمتیں یار نے لگا کے سب
خوب ڈالی ہے داغ بیل میاں
موڈ بنتا ہے جگ کا پیسے سے
ہے زباں سب کی فار سیل میاں
ہوں نہتا میں ، بولا یہ طائر
ہاتھ میں تیرے ہے غلیل میاں
تجھ سے کیا شکوہ میں کروں شاہد
جاں گئی میری ، تیرا کھیل میاں

0
3