| دل بدن پر جمی نمی پائے |
| آج بھی تیری وہ کمی پائے |
| فرصتیں گر ملیں تو لکھیں گے |
| پل محبت کے جو نہ جی پائے |
| کر سکے جن رفو نہ زخموں کو |
| وہ قبا اپنی جو نہ سی پائے |
| زندگی کب رہی ہے آساں تو |
| درد پایا تو رنج بھی پائے |
| ہے گزاری عمر گناہوں کی |
| امتحاں وہ کہ جو نبی پائے |
| میں سمجھتا ہوں مشکلیں ساری |
| راہ دشوار ہی سبھی پائے |
| عشق شاہد نہیں کتابوں میں |
| قربتیں ، وصل جو کبھی پائے |
معلومات