نغمات جودِ شاہ کے ہر آن گائیں ہم
پڑھتے ہوئے دروو مدینے کو جائیں ہم
بدلے میں پائیں مژدۂِ خلدِ بریں حضور
محشر میں اپنی آپ کو نعتیں سنائیں ہم
گل مسکراہٹوں کے چنیں باغِ سبز سے
گلدستے آنسووں کے لیے در پہ آئیں ہم
کھلتے ہی آنکھ اذنِ مدینہ ملے اگر
پھر کس طرح خوشی سے نہ پھولے سمائیں ہم
زم زم سے پائیں علتِ عصیاں سے ہم نجات
عجوہ کھجور سایۂِ گنبد میں کھائیں ہم
صلِ علیٰ کے ورد کی برکت سے شام و صبح
محسوس کر رہے ہیں وہاں کی ہوائیں ہم
وہ بے خبر نہیں قمرؔ امت کے حال سے
سب کچھ وہ جانتے ہیں ، انہیں کیا بتائیں ہم
قمرآسیؔ

0