| ہنگامۂ نشاطِ روح آخر کیا شے ہے؟ |
| گریہ کیا ہے—کمزوری یا شعور کی انتہا؟ |
| آٹھ پہر کی یہ اداسی کیسی رفاقت ہے جو سائے کی طرح ساتھ رہتی ہے؟ |
| سانسوں کا یہ خاموش رشتہ کس سے ہے—جسم سے، یا کسی ان دیکھے خلا سے؟ |
| یہ اشک، یہ آنکھیں، یہ برہمی سا انداز— |
| لہجے میں کوئی دستک نہیں، پیروں میں کوئی آہٹ نہیں، |
| اور ہر سو ایسی خاموشی کہ سینے کا شور صاف سنائی دینے لگے۔ |
| اتنی خاموشی کہ ہر شے معنوی طور پر اپنی موجودگی کا اعلان کرنے لگے۔ |
| دیوار کو دیکھوں تو وحشت اُتر آئے، |
| کمرے میں پڑی ہر چیز بکھری دکھائی دے— |
| حالانکہ وہ بکھری بھی نہ ہو۔ |
| شاید بکھرا ہوا کمرہ نہیں، بکھرا ہوا میں ہوں۔ |
| یہ آزمائشِ محبت کے دن ہیں کیا؟ |
| اگر ہیں، تو ان کی علامت کیا ہے؟ |
| کوئی آئینہ ہے جو سچ بتا دے؟ |
| کوئی چہرہ ہے جو میرے اندر کے چہرے کو پہچان لے؟ |
| کبھی یوں محسوس ہوتا ہے جیسے دل کسی بےنام ہجرت پر نکلا ہوا ہے— |
| نہ کوئی منزل طے ہے، نہ واپسی کا ارادہ۔ |
| خوشی ایک افواہ لگتی ہے، اور مسکراہٹ محض سماجی تقاضا۔ |
| لوگ باتیں کرتے ہیں، میں سنتا ہوں— |
| مگر لفظ مجھ تک پہنچتے پہنچتے معنی کھو دیتے ہیں۔ |
| یہ کیسی کیفیت ہے کہ آدمی خود سے بھی اوجھل ہو جائے؟ |
| اپنی ہی آواز اجنبی لگنے لگے، |
| اور آئینے میں دکھائی دینے والا شخص |
| ایک سوال بن کر رہ جائے۔ |
| شاید یہ محبت نہیں، |
| شاید یہ فقدان بھی نہیں، |
| شاید یہ محض شعور کی وہ حد ہے |
| جہاں انسان کو اپنی تنہائی کا صحیح اندازہ ہو جاتا ہے۔ |
| اور جب انسان کو اپنی تنہائی کا اندازہ ہو جائے— |
| تو وہ روتا نہیں، |
| وہ بس خاموش ہو جاتا ہے۔ |
معلومات