صحرائے محبت میں بہت خوار ہوئے ہم
پھر بھی اسی اک گل کے طلبگار ہوئے ہم
آزاد ہوئے دنیا کے سب رنج و الم سے
جب سے تری الفت میں گرفتار ہوئے ہم
تھی تشنہ لبی اور بیابانِ محبت
جامِ مئے الفت سے سرشار ہوئے ہم
جب چشمِ عنایات مری سمت ہوئی تھی
اس وقت ہی صیدِ نگہِ یار ہوئے ہم
چاہت کا صلہ خوب ملا راہِ وفا میں
نمناک  ہوئے  ،  پیکرِ  آزار  ہوئے  ہم
سامیؔ جو مرے غم کو کبھی کہتا تھا اپنا
آج اس کے لئے صورتِ اغیار ہوئے ہم

0
5