روز فریاد و آہ و زاری ہے
زندگی ہم نے یوں گزاری ہے
پھر وہی ہے سوال آنکھوں کا
پھر انہیں حکم اشکباری ہے
ہاتھ آ پہنچے ہیں گریباں تک
آپ سے کیسی پردہ داری ہے
وحشتیں ہر طرف ہیں حاکم کی
خون دینے سے شہر عاری ہے
مہربانی ہے چارہ گر کی جو
سانسوں سے اپنی جنگ جاری ہے
بڑھ رہی ہے قطار لاشوں کی
ظلم جیتا ، زمین ہاری ہے
سینہ شاہد ! فگار کہتا ہے
ہر لگا زخم دل پہ کاری ہے

0
1