پیر زنجیر اور گھائل دل
کون سمجھے گا میرے پاگل دل
اس میں رختِ سفر بھی رکھا ہے
اب تو لگتا ہے مجھ کو جنگل دل
جب سے زینت ہے تیرے پاؤں کی
تب سے ہی ہو گیا ہے پائل دل
حسنِ لب سے شراب پیتا ہے
کتنا مدہوش ہے یہ چنچل دل
ابر برسا تو یاد آیا ہے
مجھ پہ برسا تھا ایک بادل دل
ساگرؔ اب کس کو حالِ دل کہیے
سب ہی رکھتے ہیں ایک قاتل دل

0
4