نظر سے دور سہی دل کے آس پاس رہے
کہ کچھ رہے نہ رہے زندگی میں آس رہے
شمارِ زخمِ دلِ ناصبور کس کے لیے
یہی بہت ہے کسی درد کا احساس رہے
کسی کے ہجر میں ایسی بھی روشنی دیکھی
دیا بھی جل نہ سکا اور دل شناس رہے
وہی ہے زخمِ تمنا، وہی دلوں کا خمار
عجب نہیں کہ وہی آرزو کی پیاس رہے
ستم میں عشق نے کیا خوب آزمایا ہے
کہ میرے داغ نمایاں نہ بے لباس رہے
نجات پائیں تو کیسے تری نگاہ سے ہم
کہ اس مقام پہ جب ظلم بدحواس رہے
اُدھر طلسمِ قبا میں ہے حُسنِ قوسِ قزح
بلا سے ان کی کفن لاکھ ہم کو راس رہے
گلہ نہیں جو کٹے سر مقامِ اُلفت پر
تمہارا غم رہے باقی نہ میرا سانس رہے
وفا میں اپنی تو اتنی سی دعا ہے یا رب
کہ حورِ خلد کی محفل میں جی اُداس رہے
اُسے خبر بھی نہ ہو میری جبّہ سائی کی
تمام عمر قرارؔ اس کے در کا داس رہے

3