کیوں یاد تری دل سے نکالی نہیں جاتی
اک شام تری یاد سے خالی نہیں جاتی
ہر چند مری بے پر و بالی نہیں جاتی
پرواز کی رنگین خیالی نہیں جاتی
احساس میں صورت کبھی ڈھالی نہیں جاتی
خود رسم یہ پڑتی ہے کہ ڈالی نہیں جاتی
جاتا تو تری بزم میں لیکن کروں میں کیا
محفل میں تری ہمتِ عالی نہیں جاتی
احساس وفا کا ہے فقط دردِ محبت
یہ پھانس کلیجے سے نکالی نہیں جاتی
منظور فنا کو جو نہ ہوتا تو ستمگر
تیرے لب و رخسار کی لالی نہیں جاتی
ہوتا جو مقابل میں کوئی اور تمہارے
اک اور کوئی بزم سجالی نہیں جاتی
معلوم ہوا عشق میں یہ راز بھی ہم کو
فرقت چلی جاۓ تبہ حالی نہیں جاتی
ہوتا جو کوئی پاس محبت کا ہماری
عزت یوں سرِ بزم اچھالی نہیں جاتی
ہوتا نہ گرفتار ترے عشق میں تو کیوں
آ جاۓ قضا تو کبھی ٹالی نہیں جاتی
بھولے سے بھی تو دیکھ شبِ ہجر ادھر مت
اب ہم سے مصیبت نئی پالی نہیں جاتی
لے جاؤ کہ تم آ کے تمہاری یہ محبت
اب ہم سے امانت یہ سنبھالی نہیں جاتی
قادر میں کروں کیسے بھلا گفتگو ان سے
وہ جن کی زباں سے کبھی گالی نہیں جاتی

0
10