شدت غم سے دل نڈھال رہا
ہر گھڑی بس ترا خیال ریا
تو مجھے چھوڑ کر چلا بھی گیا
میں مگر طالب وصال رہا
حسن دیکھا بہت زمانے میں
سامنے بس ترا جمال رہا
ہار جانا مجھے ہی بھاتا تھا
جیت جانا ترا کمال رہا
سنگ تیرے بلندیاں تھیں مری
بعد تیرے تو بس زوال رہا
تتلیاں نرم خو ہیں مان لیا
فیض لہجہ ترا کمال رہا

0
1