| شکستگی کو اگر ہم شمار کرتے ہیں |
| تری طرف سے ملے زخم کان بھرتے ہیں |
| یہ دل کا ڈوبنا معمول بن گیا جیسے |
| مری بساط میں ہر روز غم نکھرتے ہیں |
| تھکا چلا ہوں میں خود کو شعور کی زِد میں |
| مگر کہ مجھ میں عموما گماں ابھرتے ہیں |
| عجب ہے حال کہ کوئی خیال تک ہی نہیں |
| یہی سبب بھی ہے، اور کیسے لوگ مرتے ہیں؟ |
معلومات